جنوبی پنجاب میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات دن بدن شدت اختیار کر رہے ہیں۔ خشک سالی اور موسم سرما میں غیر معمولی کم سردی کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین زراعت کے مطابق، گندم کی پیداوار میں ممکنہ کمی کا براہِ راست اثر مقامی اور قومی سطح پر گندم کی قیمتوں پر پڑے گا۔
مارچ اور اپریل کے دوران گندم کی قیمتیں کے 2200 سے 2500 روپے فی من تک رہنے کے امکانات ہیں جبکہ مئی میں یہ قیمتیں 2400 سے 2800 روپے تک پہنچ سکتی ہیں۔ جون کے بعد گندم کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو کر 3000 روپے فی من سے تجاوز کرنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
زمینداروں کا کہنا ہے کہ گندم کی فصل کے لیے درکار مناسب بارش نہ ہونے اور کم درجہ حرارت نہ ہونے کی وجہ سے پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ کسان رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زراعت کے شعبے کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، جیسے کہ پانی کی مؤثر دستیابی اور جدید زرعی تکنیکس کا فروغ۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو نہ صرف کسانوں کی معیشت متاثر ہوگی بلکہ عام عوام کے لیے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ بھی سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔